السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! بعض اوقات ہم کسی چیز کی خریداری کے لیے جاتے ہیں تو وہاں کچھ ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو سامان کی قیمت بڑھانے کے لیے جان بوجھ کر زیادہ بولی لگاتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقتاً وہ سامان خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا، ان کا مقصد صرف دوسرے لوگوں کو زیادہ قیمت پر سامان خریدنے پر آمادہ کرنا ہوتا ہے، کیا شریعت کی رو سے اس طرح قیمت بڑھانا اور جھوٹی بولی لگانا جائز ہے؟
واضح رہے کہ کسی شخص کا کسی سامان کو خریدنے کا ارادہ نہ ہو، لیکن وہ دوسروں کو دھوکہ دینے اور انہیں زیادہ قیمت پر خریدنے پر ابھارنے کے لیے خود کو خریدار ظاہر کرتے ہوئے سامان کی قیمت بڑھاتا رہے تو یہ دھوکا اور جھوٹ ہے، ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں۔
صحيح مسلم:(138/4،رقم الحديث:52-(1413)،ط:دار طوق النجاة) وحدثني حرملة بن يحيى ، أخبرنا ابن وهب ، أخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، حدثني سعيد بن المسيب ، أن أبا هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: «لا تناجشوا، ولا يبع المرء على بيع أخيه، ولا يبع حاضر لباد، ولا يخطب المرء على خطبة أخيه، ولا تسأل المرأة طلاق الأخرى لتكتفئ ما في إنائها ». مجمع الأنهر:(69/2،ط:دار إحياء التراث العربي) (وكره النجش) بفتحتين وبسكون الجيم أيضا إن زيد الثمن بأكثر من ثمن المثل ولا يرد الشراء لترغيب غيره ويجري في النكاح وغيره لقوله - صلى الله تعالى عليه وسلم - «لا تناجشوا» أي لا تفعلوا ذلك وإنما قيدنا بأكثر من ثمن المثل لأن المشتري إذا طلب بأقل من ثمن المثل فلا بأس أن يزيد الآخر في الثمن إلى أن يبلغ ثمن المثل وإن لم يرد الشراء.