مفتی صاحب! اگر کوئی نابالغ بچہ کوئی گناہ والا کام کرے تو کیا یہ گناہ اس کے والدین کے اعمال نامے میں لکھا جائے گا؟
شریعت میں نابالغ بچہ شرعی احکام کا مکلف نہیں ہوتا، اس لیے اگر وہ بلوغت سے پہلے کوئی گناہ والا کام کر بیٹھے تو اس کا گناہ نہ بچے کے ذمے لکھا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے والدین اس گناہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں، البتہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کریں، انہیں نیکی کی تعلیم دیں اور برے کاموں سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں، تاکہ وہ بالغ ہونے کے بعد شریعت کے مطابق زندگی گزار سکے۔
*صحيح البخاري:(62/9،رقم الحديث:7138،ط:دار طوق النجاة)* حدثنا إسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن رسول الله ﷺ قال: «ألا كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته، فالإمام الذي على الناس راع وهو مسئول عن رعيته، والرجل راع على أهل بيته وهو مسئول عن رعيته، والمرأة راعية على أهل بيت زوجها وولده وهي مسئولة عنهم، وعبد الرجل راع على مال سيده وهو مسئول عنه، ألا فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته.» *سنن الترمذي:(93/3،رقم الحديث:1423،ط:دار الغرب الإسلامي)* حدثنا محمد بن يحيى القطعي البصري، قال: حدثنا بشر بن عمر، قال: حدثنا همام ، عن قتادة ، عن الحسن البصري ، عن علي أن رسول الله ﷺ قال: «رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ،» وعن الصبي حتى يشب، وعن المعتوه حتى يعقل.