مفتی صاحب! اگر کوئی شخص کسی چیز کے فروخت کرنے میں دھوکہ، ملاوٹ سے کام لے یا عیب چھپا کر فروخت کرے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس چیز کو واپس کیا جاسکتا ہے ؟
واضح رہے کہ خرید و فروخت میں دھوکہ دینا، کسی چیز میں ملاوٹ کرنا، یا اس کا عیب جانتے ہوئے خریدار سے چھپا لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، شریعتِ مطہرہ نے معاملات میں سچائی، امانت داری اور عیب کو واضح کرنے کا حکم دیا ہے اور دھوکہ دہی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص کسی چیز کا عیب چھپا کر یا اس میں ملاوٹ کر کے فروخت کرے تو خریدار کو خیارِ عیب حاصل ہوگا، یعنی اگر فروخت کے بعد عیب معلوم ہو جائے تو وہ اس بیع کو فسخ کر کے چیز واپس کر سکتا ہے اور اپنی ادا کی ہوئی قیمت وصول کر سکتا ہے، البتہ اگر فریقین کی رضامندی سے عیب کے بقدر قیمت میں کمی کر کے معاملہ برقرار رکھنے پر اتفاق ہو جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
*صحيح مسلم:(رقم الحدیث:164 - 102،ط:دار طوق النجاۃ)* عن أبي هريرة « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني . *الشامية: (5/ 47،ط:دارالفكر)* لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن؛ لأن الغش حرام۔۔۔۔ ظهر أن خيار العيب يسقط بالعلم به وقت البيع، أو وقت القبض أو الرضا به بعدهما أو اشتراط البراءة من كل عيب، أو الصلح على شيء أو الإقرار بأن لا عيب به إذا عينه كقوله ليس بآبق فإنه إقرار بانتفاء الإباق، بخلاف قوله ليس به عيب كما مر. اهـ ملخصا (قوله؛ لأن الغش حرام) ذكر في البحر أو الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوى: إذا باع سلعة معيبة، عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته، قال الصدر لا نأخذ به. اهـ. قال في النهر: أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا؛ لأنه صغيرة.