معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

نابالغ بچے سے کوئی چیز خریدنا

فتوی نمبر : 2745 0000-00-00 16 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

مفتی صاحب ! بعض اوقات لوگ نابالع بچے سے کوئی چیز خریدتے ہیں کیا یہ ناجائز تو نہیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر نابالغ بچہ خرید و فروخت کی سمجھ رکھتا ہو اور اسے اس کے سرپرست کی اجازت حاصل ہو تو اس کی خرید و فروخت درست ہے، لیکن اگر سرپرست کی اجازت موجود نہ ہو تو معاملہ سرپرست کی اجازت پر موقوف رہے گا، اگر وہ اجازت دے دے تو خرید و فروخت صحیح ہوگی، ورنہ وہ معاملہ درست نہیں ہوگا اور خریدی گئی چیز واپس کرنا لازم ہوگا۔

*الشامية:(504/4،ط: دارالفكر)* (قوله: وشرطه أهلية المتعاقدين) أي بكونهما عاقلين، ولا يشترط البلوغ والحرية. مطلب: شرائط البيع أنواع أربعة وذكر في البحر أن شرائط البيع أربعة أنواع: شرط انعقاد ونفاذ وصحة ولزوم. فالأول أربعة أنواع: في العاقد، وفي نفس العقد، وفي مكانه، وفي المعقود عليه، فشرائط العاقد اثنان: العقل والعدد، فلا ينعقد بيع مجنون وصبي لا يعقل، ولا وكيل من الجانبين، إلا في الأب ووصيه والقاضي، وشراء العبد نفسه من مولاه بأمره، والرسول من الجانبين. ولا يشترط فيه البلوغ ولا الحرية، فيصح بيع الصبي. *الهندية:(154/3،ط: دارالفكر)* ومن البيع الموقوف بيع الصبي المحجور الذي يعقل البيع والشراء يتوقف بيعه وشراؤه على إجازة والده أو وصيه أو جده أو القاضي وكذا المعتوه والصبي المحجور إذا بلغ سفيها يتوقف بيعه وشراؤه على إجازة الوصي أو القاضي."
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
انشورنس کی اصل رقم واپس لینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نفع متعین کیے بغیر شرکت کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چرس کی کاشت و فروخت کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نابالغ بچے سے کوئی چیز خریدنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
کھاد اس شرط پر ادھار خریدنا کہ پیداوار کھاد بیچنے والے ہی کو فروخت کرے گا