عبادات / جنائز / احکام وراثت

مرحوم کی میراث سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ ، ایف آر سی وغیرہ کے اخراجات نکالنے کا حکم

فتوی نمبر : 2702 0000-00-00 13 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کے والدین کا انتقال 2010 میں ہوا ہو اور اس وقت وراثت کی تقسیم عمل میں نہ آئی ہو، اب اتنے عرصے بعد وراثت کی تقسیم کا ارادہ ہے، جس کے لیے کچھ اخراجات ہوئے ہیں، مثلاً ڈیتھ سرٹیفکیٹ، ایف آر سی وغیرہ بنوانے کے اخراجات اور اس سلسلہ میں آنے جانے کا خرچ بھی ہوا ہے تو کیا یہ سارے اخراجات مجموعی جائیداد میں سے کاٹے جائیں گے یا نہیں؟ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مرحوم کے انتقال کے بعد اس کی تجہیز و تکفین کے تمام اخراجات اس کے ترکہ سے ادا کیے جائیں گے، البتہ ضروری ہے کہ یہ اخراجات شرعی طریقے کے مطابق اور درمیانے درجے کے ہوں۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ، ایف آر سی اور دیگر ضروری دستاویزات کے حصول پر جو اخراجات آئے ہیں، اگر وہ تمام ورثا کی رضامندی سے کیے گئے ہوں تو میراث تقسیم کرتے وقت تجہیز و تکفین کے اخراجات کے ساتھ ان اخراجات کو بھی ترکہ سے منہا کیا جائے گا اور اس کے بعد باقی ماندہ ترکہ شرعی اصولوں کے مطابق ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔

*الھندیة: (447/6، ط: دار الفكر)* التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط ويستثنى من ذلك حق تعلق بعين كالرهن والعبد الجاني فإن المرتهن وولي الجناية أولى به من تجهيزه، كذا في خزانة المفتين ويكفن في مثل ما كان يلبس من الثياب الحلال حال حياته على قدر التركة من غير تقتير ولا تبذير، كذا في الاختيار شرح المختار.. *البحر الرائق: (8/ 557،ط: دارالکتاب الاسلامی)* فيجب أن يعلم أن التركة تتعلق بها حقوق أربعة جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث فيبدأ بجهازه وكفنه وما يحتاج في دفنه بالمعروف وفي«الكافي من غير تبذير ولا تقتير وفي التهذيب إذا مات الرجل يبدأ من تركته بتكفينه وتجهيزه بالمثل والمثل ما يلبس عند الخروج وقيل في الأعياد وقيل في الجمع والجماعات وهو الأصح، ثم الدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل دين المرض.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)