ایک شخص کا انتقال ہو گیا، اس پر دوسرے نے دعوی کیا کہ اس پر میرا پانچ لاکھ کا قرضہ ہے، لیکن اس کے ورثا انکار کر رہے ہیں اس صورت میں کیا حکم ہے ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
اگر کوئی شخص میت پر قرض کا دعویٰ کرے اور ورثا اس کا انکار کریں تو محض دعویٰ کرنے سے قرض ثابت نہیں ہوتا، شرعاً دعویٰ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اپنے دعویٰ کے ثبوت کے لیے گواہ پیش کرے، اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو ورثا قسم کھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے اور ان پر اس دعویٰ کی بنیاد پر قرض ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔
*صحيح مسلم:(128/5،رقم الحديث:1711،ط:دار طوق النجاة)* حدثني أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن سرح ، أخبرنا ابن وهب ،عن ابن جريج ، عن ابن أبي مليكة ،عن ابن عباس أن النبي ﷺ قال: «لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم، ولكن اليمين على المدعى عليه ». *تكملة حاشية ابن عابدين: (8/ 40،ط:دارالفکر)* وكذا لو نكل مرة لان اليمين واجبة عليه لقوله عليه الصلاة والسلام البينة على المدعي واليمين على من أنكر ترك هذا الواجب بالنكول دليل على أنه باذل ومقر، وإلا قدم على اليمين تفصيا عن عهدة الواجب ودفعا للضرر عن نفسه ببذل المدعي أو الاقرار به.