السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ بچے کی پیدائش کو اگر 20، 25 دن گزر جائیں تو عقیقہ اسی دن کرنا ہے جس دن بچہ پیدا ہوا یا کسی بھی دن کر سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ عقیقہ کا مسنون وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن کرے، اگر ساتویں دن نہ کرسکے تو چودھویں (14) دن، ورنہ اکیسویں (21) دن کرلے، اس کے بعد عقیقہ کرنا مباح ہے، اگر کرلیا تو ادا ہوجائےگا، لیکن وقت مستحب کی فضیلت حاصل نہیں ہوگی، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر اکیسویں (21) دن بھی عقیقہ نہیں کیا تو پھر جس دن چاہے عقیقہ کرسکتے ہیں، تاہم پھر بھی افضل یہ ہےکہ پیدائش کے دن کے حساب سے ساتویں دن کرے۔ ساتوین دن کےحساب کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہو، اس سے ایک دن پہلے عقیقہ کریں، مثلاً اگر بچہ ہفتہ کے دن پیدا ہوا ہے تو جمعہ کو عقیقہ کریں اور اگر جمعہ کو بچہ پیدا ہوا تو جمعرات کو کریں، اس طرح جب بھی عقیقہ کیا جائے گا، وہ ساتواں دن ہوگا۔
صحیح البخاری:(،رقم الحدیث:5471 ط: دارطوق النجاة) عن محمد بن سيرين: حدثنا سلمان بن عامر الضبي قال: سمعت رسول اللهﷺ يقول: مع الغلام عقيقة، فأهريقوا عنه دما وأميطوا عنه الأذى. سنن الترمذي: (رقم الحديث:1513،ط:دارالغرب الاسلامی) حدثنا يحيى بن خلف البصري، قال: حدثنا بشر بن المفضل، قال: أخبرنا عبد الله بن عثمان بن خثيم ، عن يوسف بن ماهك «أنهم دخلوا على حفصة بنت عبد الرحمن فسألوها عن العقيقة» فأخبرتهم أن عائشة أخبرتها، أن رسول الله ﷺ أمرهم عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة. عمدۃالقاری:(88/21،ط،داراحیاء التراث العربی) قال: والعمل على هذا عند أهل العلم يستحبون أن يذبح عن الغلام العقيقة يوم السابع. فإن لم يتهيأ يوم السابع فيوم الرابع عشر، فإن لم يتهيأ عق عنه يوم إحدى وعشرين.