عقیقہ

جس بچے کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو کیا وہ بھی آخرت میں والدین کی سفارش کرے گا؟

فتوی نمبر :
1989
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / عقیقہ

جس بچے کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو کیا وہ بھی آخرت میں والدین کی سفارش کرے گا؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر بچہ آٹھ دن کے بعد مرجائے اور اس کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو تو کیا وہ آخرت میں اپنے والدین کی 1سفارش کرے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عقیقہ شریعت میں واجب یا لازم نہیں، بلکہ ایک مسنون و مستحب عمل ہے، جو زندہ بچے کی طرف سے کیا جاتا ہے، اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا اور نومولود کی نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا ہے،اگر کسی بچے کا انتقال ہو جائے تو اس کے بعد عقیقہ کرنا مسنون یا مستحب نہیں رہتا، کیونکہ عقیقہ کا تعلق زندگی کے ساتھ ہے، نہ کہ وفات کے بعد، لہٰذا ایسے موقع پر عقیقہ نہ کرنے پر کوئی گناہ یا شرعی مواخذہ نہیں۔
بعض ائمہ کا یہ قول ہے کہ اگر بچے کا عقیقہ نہ کیا گیا ہو اور وہ فوت ہو جائے، تو وہ والدین کی شفاعت نہیں کرے گا،البتہ امام صاحب کے نزدیک راجح اور مضبوط قول یہ ہے کہ عقیقہ نہ ہونے کے باوجود، اگر بچہ فوت ہو جائے اور والدین نے صبر و احتساب اختیار کیا ہو، تو وہ بچہ بھی ان شاء اللہ اپنے ماں باپ کے لیے شفاعت کا ذریعہ بنے گا۔

حوالہ جات

*سنن ابي داؤود:(459/4،رقم الحديث:2838،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابن أبي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن عن سمرة بن جندب، أن رسول الله - ﷺ - قال: «كل غلام رهينة بعقيقته: تذبح عنه يوم سابعه، ويحلق، ويسمى».

*فيض الباري:(648/5،ط:دار الكتب العلمية بيروت)*
أن الغلام مرتهن بعقيقته»، وأجود شروحه ما ذكره أحمد وحاصله: أن الغلام إذا لم يعق عنه، فمات لم يشفع لوالديه. ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلت: بل يجوز إلى أن يموت، لما رأيت في بعض الروايات أن النبي ﷺ عق عن نفسه بنفسه. والسر في العقيقة أن الله أعطاكم نفسا، فقربوا له أنتم أيضا بنفس، وهو السر في الأضحية. ولذا اشترطت سلامة الأعضاء في الموضعين، غير أن الأضحية سنوية، وتلك عمرية.

*مرقاةالمفاتيح:(2688،ط: دار الفكر)*
وفي شرح السنة: قد تكلم الناس فيه، وأجودها ما قاله أحمد بن حنبل معناه أنه إذا مات طفلا ولم يعق عنه لم يشفع في والديه. وروي عن قتادة: أنه يحرم شفاعتهم. قال الشيخ التوربشتي: ولا أدري بأي سبب تمسك، ولفظ الحديث لا يساعد المعنى الذي أتى به بل بينهما من المباينة مالا يخفى على عموم الناس، فضلا عن خصوصهم.

*بدائع الصنائع:(72/5،ط: دار الكتب العلمية)*
وكذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب إلى الله تعالى - عز شأنه - بالشكر على ما أنعم عليه من الولد، كذا ذكر محمد في نوادر الضحايا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
22
فتوی نمبر 1989کی تصدیق کریں