السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ والدہ نے دو بیٹوں کو ایک ساتھ، جو دونوں آپس میں شریک تھے، 60 گرام سونا قرض دیا اور کہا کہ کام کرو، بعد میں میرا قرض واپس کر دینا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس طرح قرض دینا درست ہے؟ اور اب ایک بیٹا فوت ہو گیا ہے، کیا دوسرے بیٹے سے والدہ اپنا مکمل قرض لے سکتی ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کا حل بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
پوچھی گئی صورت میں اگر والدہ نے اپنے دونوں بیٹوں کو 60 گرام سونا بطورِ قرض دیا تھا تو یہ قرض دونوں بیٹوں کے ذمے لازم ہوگا اور ہر بیٹا اپنے ذمہ آنے والے قرض کا ذمہ دار ہوگا، قرض کی ادائیگی پر قدرت کے باوجود اسے بلاوجہ مؤخر کرنا درست نہیں۔ اگر ایک بیٹا وفات پا گیا ہے تو اس کے ذمے جو قرض تھا، وہ اس کے انتقال کے بعد اس کے ترکے میں سے ادا کیا جائے گا، جبکہ دوسرے بیٹے کے ذمے جو قرض ہے، والدہ اس سے وہ قرض وصول کرسکتی ہیں، لہٰذا والدہ دوسرے بیٹے سے فوت ہونے والے بیٹے کا حصہ بھی بطورِ قرض وصول نہیں کرسکتیں۔
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(3793/5،ط:دار الفكر) يجب على المقترض أن يرد مثل المال الذي اقترضه إن كان المال مثليًا بالاتفاق، ويرد مثله صورة عند غير الحنفية إذا كان محل القرض مالًا قيميًا، كرد شاة تشبه الشاة التي اقترضها في أوصافها. بدائع الصنائع:(396/7،ط:دار الكتب العلمية) وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية. وروي عن أبي يوسف في النوادر لا يملك القرض بالقبض ما لم يستهلك. الشامية:(848/3،ط: دارالفكر) مطلب الديون تقضى بأمثالها (قوله بل وصف للذمة إلخ) ولهذا قيل إن الديون تقضى بأمثالها على معنى أن المقبوض مضمون على القابض لأن قبضه بنفسه على وجه التملك ولرب الدين على المدين مثله، فالتقى الدينان قصاصا وتمامه في البحر.