معاملات / مالی معاوضات / قرض

قرض دی ہوئی رقم پر اضافی رقم کا مطالبہ کرنا

فتوی نمبر : 163 0000-00-00 187 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

زید نے عمرو کو کئی سال پہلے کچھ رقم قرض دی تھی اب جب عمرو قرض کی رقم واپس کر رہا ہے تو زید اس سے زیادتی کا مطالبہ کر رہا ہے زید یہ کہتاہے کہ جس وقت میں نے یہ رقم آپ کو دی تھی اس وقت ان پیسوں کی ویلیو زیادہ تھی اور اب کم ہے ، لہذا مجھے اس زمانے کے ویلیو کے اعتبار سے پیسے دو ۔ مفتی صاحب ! کیا زید کا یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب باسم ملہم الصواب واضح رہے کہ زکجرکردہ صورت میں زید کا قرض دی ہوئی رقم پر زیادتی کا مطالبہ کرنادرست نہیں، کئی سال پہلے جتنا قرض لیا تھا، اتنا ہی واپس کرنا ہوگا ۔پیسوں میں ویلیو کاکوئی اعتبار نہیں ہوگا ۔

دلائل : مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (2/ ،ط: دار إحياء التراث العربي) القرض هو ‌عقد ‌مخصوص ‌يرد على دفع مال مثلي لرد مثله وصح في مثلي لا في غيره فصح استقراض الدراهم والدنانير. العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 279، ط:دارالمعرفة ) (سئل) في ‌رجل ‌استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟ (الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها . واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب سیف اللہ خالد متخصص جامعہ دارالعلوم حنفیہ ، کراچی
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)