اگر کسی شہر میں بمباری ہو، اس بمباری میں جو لوگ شہید ہوں تو کیا وہ دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے شہید تصور کیے جائیں گے یا نہیں؟ اور انہیں غسل دیا جائے گا یا نہیں؟
وہ شخص جو ظلماً دھاری دار آلہ سے قتل کیا جائے یا جہاد کرتے ہوئے شہادت کی سعادت حاصل کرے، اس کو آخرت میں شہادت کا مرتبہ نصیب ہوگا اور دنیا میں بھی اس پر شہید کے احکام جاری ہوں گے ، لہذا اگر کسی شہر میں بمباری کے نتیجے میں کچھ مسلمان شہید ہوجائیں تو وہ دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے شہید شمار ہوں گے، ایسے شہداء کو غسل نہیں دیا جائے گا، بلکہ انہیں اسی حالت میں دفن کیا جائے گا، البتہ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔
*الدرالمختار:(247/2،ط: دارالفكر)* باب الشهيد فعيل بمعنى مفعول لأنه مشهود له بالجنة أو فاعل لأنه حي عند ربه فهو شاهد. (هو كل مكلف مسلم طاهر)....غسل حنظلة لحصوله بفعل الملائكة»، بدليل قصة آدم (قتل ظلما) بغير حق (بجارحة) أي بما يوجب القصاص. *الشامية:(248/2،ط: دارالفكر)* (قوله: قتل ظلما) لم يقل قتله مسلم كما في الكنز لأن الذمي كذلك. وقيد بالقتل؛ لأنه لو مات حتف أنفه أو بترد أو حرق أو غرق أو هدم لم يكن شهيدا في حكم الدنيا، وإن كان شهيدا في الآخرة كما سيأتي وبقوله ظلما لما يأتي من أنه لو قتل بحد أو قصاص مثلا لا يكون شهيدا فيغسل، ودخل فيه المقتول مدافعا عن نفسه أو ماله أو المسلمين أو أهل الذمة فإنه شهيد، لكن لا يشترط كون قتله بمحدد كما في البحر عن المحيط، واستشكله في النهر.