گناہ و ناجائز

نوکری کے لیے جعلی سند بنوانا

فتوی نمبر :
1809
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نوکری کے لیے جعلی سند بنوانا

"السلام علیکم!
آج ایک دوست میرے پاس آیا تھا، وہ ابتدائی درجات کی اسناد (سرٹیفکیٹ) بنانا چاہتا ہے، تاکہ انہیں امارت میں نوکری کے لیے استعمال کرے، حالانکہ اس نے وہ کتابیں بالکل کم پڑھی ہیں، کیا اس طرح جعلی اسناد بنانا خیانت میں آتا ہے یا نہیں؟ اور ایسی نوکری کا کیا حکم ہے؟"

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جعلی ڈگری بنانا یا اس کی بنیاد پر نوکری حاصل کرنا شرعاً سخت منع ہے، کیونکہ یہ جھوٹ، دھوکا دہی، خیانت اور حق داروں کی حق تلفی جیسے گناہوں پر مشتمل ہے، اسلام میں کسی قسم کا فریب جائز نہیں، اس لیے جعلی اسناد تیار کرنا اور ان کے ذریعے سرکاری یا غیر سرکاری ملازمت حاصل کرنا بھی ناجائز ہے، ایسے شخص پر ضروری ہے کہ سچے دل سے توبہ واستغفار کرے۔
البتہ اگر کوئی شخص جعلی ڈگری کے ذریعے ملازمت لے لے، لیکن وہ اس نوکری کے تمام کام صحیح اہلیت کے ساتھ اور دیانت داری سے انجام دیتا ہو تو اس کی تنخواہ حلال ہوگی، کیونکہ تنخواہ کا حلال یا حرام ہونا کام کی درست ادائیگی سے متعلق ہے، لیکن اگر وہ اس کام کا اہل نہ ہو یا ذمہ داری پورے اخلاص اور دیانت سے ادا نہ کرے تو اس کی کمائی حلال نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

*صحيح مسلم:69/1،رقم الحديث:(166-(101)،ط: دارالفكر)*
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا يعقوب، وهو ابن عبد الرحمن القاري ، (ح) وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان ، حدثنا ابن أبي حازم كلاهما، عن سهيل بن أبي صالح ، عن أبيه ، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا ».

*البحر الرائق:(3/8،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
واما رکنها فهو الايجاب والقبول والارتباط بينهما، واما شرط جوازها فثلاثة اشياء: اجر معلوم، وعين معلوم، وبدل معلوم، ومحاسنها دفع الحاجة بقليل المنفعة، واما حكمها فوقوع الملك في البدلين ساعة فساعة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
23
فتوی نمبر 1809کی تصدیق کریں