کیا حروفِ مقطعات کا معنی صرف اللہ ربّ العزّت جانتے ہیں، یا اللہ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ان کے معنی سے باخبر ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
حروف مقطعات کی تفسیر میں اختلاف ہے۔جمہورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین کرام رحمہم اللہ کے نزدیک راجح یہ ہےکہ یہ حروف رموز واسرار ہیں،جن کے معانی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں اور کسی کو معلوم نہیں۔ اس لیےیہ حضرات ان حروف کی کوئی تفسیر نہیں کرتے۔ قرطبی رحمہ اللہ نے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہی نقل کیا ہے۔ عامر، شعبی، سفیان ثوری، ربیع بن خیثم رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ابوحاتم بن حبان رحمہ اللہ کو بھی اسی سے اتفاق ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ حرو ف مقطعات اللہ اور اس کے رسول کے درمیان میں اسرار ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم بطور ایک راز کے دیا گیا، جس کی تبلیغ امت کے لیے روک دی گئی، اسی لیے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان حروف کی تفسیر و تشریح میں کچھ منقول نہیں۔
تیسرا قول یہ ہے کہ ان کی مراد معلوم ہے پھر تعیین مراد میں بہت اقوال ہیں۔
مفتی محمدشفیع عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ یہ حروف مقطعات قرآن میں حق تعالیٰ کا راز ہے ، اس لیے یہ ان متشابہات میں سے ہیں جن کا علم صرف حق تعالیٰ ہی کو ہے ، ہمارے لیے ان میں بحث و گفتگو بھی جائز نہیں ، مگر اس کے باوجود وہ ہمارے فائدے سے خالی نہیں ، اول تو ان پر ایمان لانا پھر ان کا پڑھنا ہمارے لیے ثواب عظیم ہے ، دوسرا ان کے پڑھنے کے معنوی فوائد و برکات ہیں ، جو اگرچہ ہمیں معلوم نہ ہوں مگر غیب سے وہ ہمیں پہونچتے ہیں پھر فرمایا:حضرت صدیق اکبر ، فاروق اعظم ، عثمان غنی ، علی مرتضیٰ ، عبد اللہ بن مسعود وغیرہ جمہور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ان حروف کے متعلق یہی عقیدہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسرار ہیں ، ہمیں ان پر ایمان لانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں ، اور جس طرح آئے ہیں ان کی تلاوت کرنا چاہیے ، مگر معنی معلوم کرنے کی فکر میں پڑنا درست نہیں ۔ ابن کثیر نے بھی قرطبی وغیرہ سے نقل کر کے اسی مضمون کو ترجیح دی ہے ، اور بعض اکابر علماء سے جو ان حروف کے معنی منقول ہیں اس سے صرف تمثیل و تنبیہ اور تسہیل مقصود ہے ، یہ نہیں کہ مراد حق تعالیٰ یہ ہے ، اس لیے اس کو بھی غلط کہنا تحقیق علماء کے خلاف ہے۔(معار ف القرآن حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ)
*تفسير الطبري:(1/ 217 ،ط: دارالتربية والتراث)*
والصواب من القول عندي في تأويل مفاتح السور، التي هي حروف المعجم: أن الله جل ثناؤه جعلها حروفا مقطعة ولم يصل بعضها ببعض -فيجعلها كسائر الكلام المتصل الحروف - لأنه عز ذكره أراد بلفظه الدلالة بكل حرف منه على معان كثيرة، لا على معنى واحد، كما قال الربيع بن أنس. وإن كان الربيع قد اقتصر به على معان ثلاثة، دون ما زاد عليها.
*تفسير القرطبي:(1/ 154،ط: دار الكتب المصرية)*
اختلف أهل التأويل في الحروف التي في أوائل السور، فقال عامر الشعبي وسفيان الثوري وجماعة من المحدثين: هي سر الله في القرآن، ولله في كل كتاب من كتبه سر. فهي من المتشابه الذي انفرد الله تعالى بعلمه، ولا يجب أن يتكلم فيها، ولكن نؤمن بها ونقرأ كما جاءت. وروي هذا القول عن أبي بكر الصديق وعن علي بن أبي طالب رضي الله عنهما. وذكر أبو الليث السمرقندي عن عمر وعثمان وابن مسعود أنهم قالوا: الحروف المقطعة من المكتوم الذي لا يفسر. وقال أبو حاتم: لم نجد الحروف المقطعة في القرآن إلا في أوائل السور، ولا ندري ما أراد الله عز وجل بها. قلت: ومن هذا المعنى ما ذكره أبو بكر الأنباري: حدثنا الحسن بن الحباب حدثنا أبو بكر بن أبي طالب حدثنا أبو المنذر الواسطي عن مالك بن مغول عن سعيد بن مسروق عن الربيع بن خثيم قال: إن الله تعالى أنزل هذا القرآن فاستأثر منه بعلم ما شاء، وأطلعكم على ما شاء، فأما ما استأثر به لنفسه فلستم بنائليه فلا تسألوا عنه، وأما الذي أطلعكم عليه فهو الذي تسألون عنه وتخبرون به، وما بكل القرآن تعلمون، ولا بكل ما تعلمون تعملون. قال أبو بكر: فهذا يوضح أن حروفا من القرآن سترت معانيها عن جميع العالم، اختبارا من الله عز وجل وامتحانا، فمن آمن بها أثيب وسعد، ومن كفر وشك أثم وبعد....الخ.
*كذا في معار ف القرآن للمفتی محمد شفیع:(1/108،ط:مكتبة معارف القرآن)*