موت

فوتگی کمیٹی کا شرعی حکم اور طریقہ

فتوی نمبر :
1732
عبادات / جنائز / موت

فوتگی کمیٹی کا شرعی حکم اور طریقہ

ہمارے خاندان میں دو سگے بھائی تھے: ایک میرے دادا (داداِ جدّ) اور ان کے بھائی۔ دونوں کے تین تین بیٹے ہیں، یوں کل چھ افراد بن گئے، یہ سب شادی‌شده، عاقل، بالغ، تندرست اور معاشی طور پر خود کفیل ہیں۔ ان چھ افراد میں سے دو کے دو دو بیٹے، ایک کے ایک بیٹے شادی‌شده ہیں، جبکہ باقی تین کے بیٹے شادی‌شده نہیں،یوں ہمارے خاندان میں مجموعی طور پر 11 بالغ، شادی‌شده، صاحبِ شعور اور ذمہ‌دار افراد موجود ہیں جو ازدواجی، معاشی و صاحبِ استطاعت ہیں اور اس پر خوشی بھی محسوس کرتے ہیں،ہمارا گاؤں جنگل کے قریب یعنی پہاڑی علاقہ ہے جہاں رواج ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کی خدمت و طعام کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ ان کے آرام اور ضیافت میں کوتاہی نہ ہو۔
اس پس منظر میں گزارش ہے:
1) اگر خاندان میں کسی فرد کا انتقال ہو جائے تو کیا شرعی طور پر ان 11 ذمّہ‌دار اور صاحبِ استطاعت افراد پر مشتمل ایک اجتماعی کمیٹی یا تنظیم بنائی جا سکتی ہے جو باہمی مشورے اور خوش دلی سے تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کی مہمان‌نوازی کا انتظام کرے؟ کیا یہ عمل شریعت میں داخل ہے؟ اور اس کے لیے مناسب اور جائز طریقِ کار کیا ہونا چاہیے؟
2) اسی طرح اگر میرے چچا، جو میت کے گھر سے علیحدہ رہتے ہیں، اپنی خوش دلی سے اپنی ذاتی ملکیت میں موجود ایک گائے ذبح کر کے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کریں (اور دن کا بھی کوئی خاص تعیّن نہ رکھا جائے)، تو کیا یہ عمل شرعی طور پر جائز، پسندیدہ اور “تعاون علی البر” کے زمرے میں آئے گا؟ یا اسے بدعت، مکروہ یا غیر پسندیدہ شمار کیا جائے گا؟
مہربانی فرما کر دونوں امور کی وضاحت قرآنِ کریم، سنتِ نبویہ اور فقہی اصولوں کی روشنی میں فرمائیں تاکہ ہم واضح شرعی رہنمائی حاصل کر سکیں۔ اور یہ مسئلہ میرا پیش ہے، فتویٰ کی اشدّ ضرورت ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فوتگی کے موقع پر میت کے گھر والوں کے لیے کھانے اور دیگر ضروریات کا انتظام شرعا رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی ذمہ داری ہے،لیکن آج کل اس ذمہ داری میں کوتاہی کے باعث مختلف کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں، جن میں عموماً چند شرعی قباحتیں پائی جاتی ہیں، مثلاً:
1) امیر و غریب سے یکساں چندہ لینا، جس میں عموماً غریب کی رضامندی شامل نہیں ہوتی۔
2) جمع شدہ فنڈ کی زکوٰۃ ادا نہ کرنا،حالانکہ سال گزرنے پر اس کی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
3) ایک دوسرے سے تعاون کو مشروط کر دینا، جس سے سود اور جُوا کا پہلو پیدا ہو جاتا ہے۔
4) ممبر کی وفات کے بعد اس کی جمع شدہ رقم ورثہ کو واپس نہ کرنا، حالانکہ وہ اس کی ملکیت ہوتی ہے،کیونکہ میت کمیٹی کی انتظامیہ دراصل چندہ دینے والے کی طرف سےفوتگی کے موقع پر رقم خرچ کرنے کی وکیل ہوتی ہے اور وکیل جب تک رقم کو خرچ نہیں کرلیتا وہ چندہ دینے والے کی ملکیت میں رہتی ہے، اس لیے یہ رقم خرچ ہونے سے پہلے شرعاً چندہ دینے والے کی ملکیت ہوتی ہے، لہذاسال گزرنے پر اگر مالک صاحبِ نصاب ہو تو اس کے ذمے اس رقم کی زکاة ادا کرنا لازم ہے،اسی طرح اگر کمیٹی کا کوئی ممبر اپنی جمع کرائی گئی رقم خرچ ہونے سےپہلے فوت ہو جائے تو اس کے حصہ کی رقم اس کی ملکیت میں ہونے کی وجہ سےاس کے ورثہ کو واپس کرنا ضروری ہوتا ہے۔اس لیے ایسی کمیٹیاں بنانا شرعاً درست نہیں۔
البتہ اگر درج ذیل شرائط پر عمل کیا جائے تو فوتگی کے تعاون کے لیے جائز کمیٹی (وقف) قائم کی جاسکتی ہے:

1) چند افراد ابتدا میں باہمی رضامندی سے کچھ رقم جمع کر کے وقف قائم کریں اور یہ طے کریں کہ اگر کبھی وقف ختم ہو تو بقیہ رقم فقراء پر خرچ ہوگی۔
2)وقف کی شرط رکھی جائے کہ جو شخص وقف کو ماہانہ چندہ دے گا،تو اس وقف کی پہلی ترجیح یہ ہوگی کہ اس کے گھر میں فوتگی پر حسبِ استطاعت تعاون کیا جائے گا، یہ تعاون چندہ کی مقدار پر منحصر نہیں ہوگا، بلکہ حالات کو دیکھ کر طے ہوگا۔
3) چندہ دینے والے کسی بھی طرح قانونی یا نقدی مطالبہ نہیں کر سکیں گے۔
4)وقف وقتاً فوقتاً ایسے غریب افراد کی فوتگی پر بھی تعاون کرے گا جو چندہ نہیں دیتے۔
5)کسی کو چندہ دینے پر مجبور نہ کیا جائے۔
6) وقف كا ممبر بننے كے ليے حقيقی اخراجات کے علاوہ کسی قسم کی کوئی رقم وصول نہ کی جائے، نیز اگر کوئی ممبر غریب ہونے کی وجہ سے کبھی طے شدہ رقم سے کم دے تو اس کی بھی گنجائش رکھی جائے۔
7) امیر و غریب سب پر برابر خرچ کیا جائے اور عام حالات میں ایک دن سے زیادہ کھانے کا انتظام نہ کیا جائے، مگر ضرورت ہو تو گنجائش ہے۔
ان شرائط کے ساتھ قائم وقف پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی اور ممبر کے چھوڑ دینے یا فوت ہونے کی صورت میں بھی جمع شدہ رقم واپس نہیں کی جائے گی، کیونکہ وہ وقف کی ملکیت بن چکی ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ میت کے لیے ایصالِ ثواب ہر وقت اور ہر جگہ جائز ہے، قرآن کی تلاوت، دعا، تسبیح، صدقہ اور حتیٰ کہ کھانا کھلانا بھی دن کی کوئی تعیین کیے بغیر کیا جا سکتا ہے اور اس کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے۔
البتہ چونکہ بعض جگہ مخصوص دنوں میں کھانا کھلانا ایک رسم کی شکل اختیار کر چکا ہے، اس لیے ایسی بناوٹی اور خود ساختہ پابندیوں سے احتراز ضروری ہے۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي:(312/2،رقم الحديث:998،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا أحمد بن منيع وعلي بن حجر ، قالا: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن جعفر بن خالد، عن أبيه ، عن عبد الله بن جعفر قال: «لما جاء نعي جعفر» قال النبي ﷺ: اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم.هذا حديث حسن.
وقد كان بعض أهل العلم يستحب أن يوجه إلى أهل الميت شيء لشغلهم بالمصيبة، وهو قول الشافعي.وجعفر بن خالد هو ابن سارة، وهو ثقة، روى عنه ابن جريج.

*بذل المجهود:(404/10،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي)*
والمعنى جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم؛ فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم.وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر، سن أن يلح عليهم في الأكل لئلا يضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع،واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم؛ لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل الميت لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير - رضي الله عنه -: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم.

*الشامية:(240/2،ط: دارالفكر)*
ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره.

*ملتقى الابحر:(493/1،ط:دار الكتب العلمية)*
يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه بلا إسراف ولا تقتير ثم تقضى ديونه ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته ويستحق الإرث بنسب ونكاح وولاء. ويبدأ بأصحاب الفروض ثم بالعصاب النسبية، ثم بالمعتق ثم عصبته....الخ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
84
فتوی نمبر 1732کی تصدیق کریں