سوال :
طب وقایہ یعنی بیماری سے پہلے احتیاط سے متعلق شریعت میں کیا حکم ہے ؟اس حوالے سے اگر کوئی حدیث مبارکہ یا قرآن کریم کی کوئی آیت ہو تو بتائیں ۔ جزاک اللّہ
بیماری آنے سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اسلام کی نظر میں نہ صرف جائز، بلکہ مستحسن اور پسندیدہ ہے۔ شریعت کی نصوص اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان اپنی صحت کی حفاظت کرے اور بیماریوں سے بچاؤ کے اسباب اختیار کرے۔
۱۔ارشادباری تعالی ہے کہ ’’وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ‘‘ترجمہ:’’اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔‘‘(البقرہ: 195)
اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حفظانِ صحت اور حفاظت کے دیگر اقدامات اٹھانا نہایت اہم ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے، ہلاکت کا سبب بننے یا ایسی چیز اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے جو یقیناً یا غالب گمان کے ساتھ نقصان کا سبب ہو، یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے ’’جان کی حفاظت‘‘ کومقاصد شریعت اور ضروریاتِ خمسہ میں شمار کیا ہے۔
۲۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:’’غزوہ ذات سلاسل میں مجھے ایک ٹھنڈی رات میں احتلام ہو گیا ، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا ، چنانچہ میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے عمرو ! کیا تو نے جنبی ہوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جماعت کرائی تھی؟ میں نے بتایا کہ کس وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے «ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما»(اپنے آپ کو قتل نہ کرو ، اللہ تم پر بہت ہی مہربان ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور کچھ نہ کہا۔‘‘
۳۔حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”برتن ڈھانک دو، مشکیزے کا منہ باندھ دو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے، پھر جب ان ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے تو اس وبا میں سے (کچھ حصہ) اس میں اتر جاتا ہے۔“
۴۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا تھا۔(ممکن ہے کہ اتنا پانی اچانک پیٹ میں چلا جائے کہ جان خطرے میں پڑ جائے۔)
۵۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جذام والے سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو۔
۶۔حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ: ثقیف کے وفد میں کوڑھ کا مریض بھی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیغام بھیجا:”ہم نے (بالواسطہ) تمہاری بیعت لے لی ہے، اس لیے تم (اپنے گھر) لوٹ جاؤ۔“
۷۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جن لوگوں کو کوڑھ کی بیماری ہو، انہیں مت دیکھتے رہا کرو اور جب ان سے بات کیا کرو تو اپنے اور ان کے درمیان ایک نیزے کے برابر فاصلہ رکھا کرو۔“
خلاصہ كلام:
ان دلائل سے معلوم ہوتا ہےکہ شریعت نے یہ تعلیم دی ہے کہ انسان اپنی صحت اور جان کی حفاظت کرے، وبائی اور مُضر چیزوں سے دور رہے اور نقصان کے غالب گمان کی حالت میں احتیاط کو لازم پکڑے، لہذا بیماری آنے سے پہلے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شرعاً نہ صرف جائز، بلکہ مستحسن اور پسندیدہ ہے۔
*سنن أبي داود:(1/ 249،رقم الحدیث:334،ط: دار الرسالة العالمية)*
حدثنا ابن المثنى، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا أبي، قال: سمعت يحيى بن أيوب يحدث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن عمران بن أبي أنس، عن عبد الرحمن بن جبيرعن عمرو بن العاص، قال: احتلمت في ليلة باردة في غزوة ذات السلاسل فأشفقت أن اغتسل فأهلك، فتيممت، ثم صليت بأصحابي الصبح، فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "يا عمرو، صليت بأصحابك وأنت جنب؟ " فأخبرته بالذي منعني من الاغتسال، وقلت: إني سمعت الله يقول: {ولا تقتلوا أنفسكم إن اللة كان بكم رحيما} [النساء: 29]، فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم -ولم يقل شيئا.
*صحيح مسلم:(6/ 107،رقم الحدیث: 99 - (2014)،ط:دارطوق النجاۃ)*
وحدثنا عمرو الناقد ، حدثنا هاشم بن القاسم ، حدثنا الليث بن سعد ، حدثني يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد الليثي ، عن يحيى بن سعيد ، عن جعفر بن عبد الله بن الحكم ، عن القعقاع بن حكيم ، عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: « غطوا الإناء، وأوكوا السقاء، فإن في السنة ليلة ينزل فيها وباء، لا يمر بإناء ليس عليه غطاء، أو سقاء ليس عليه وكاء، إلا نزل فيه من ذلك الوباء .»
*صحيح البخاري:(7/ 112،رقم الحدیث:5629،ط:دارطوق النجاۃ)*
حدثنا مسدد: حدثنا يزيد بن زريع: حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: «نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الشرب من في السقاء.
*مصنف ابن أبي شيبة:(5/ 142،رقم الحدیث: 24543،ط: مكتبة الرشد)*
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع، عن النهاس بن قهم، عن شيخ، قال: سمعت أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فر من المجذوم فرارك من الأسد.
*صحيح مسلم:(7/ 37،رقم الحدیث: 126 - (2231)،ط:دارطوق النجاۃ)*
حدثنا يحيى بن يحيى ، أخبرنا هشيم . (ح) وحدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ، حدثنا شريك بن عبد الله وهشيم بن بشير ، عن يعلى بن عطاء ، عن عمرو بن الشريد ، عن أبيه قال: « كان في وفد ثقيف رجل مجذوم، فأرسل إليه النبي صلى الله عليه وسلم: إنا قد بايعناك، فارجع .»
*مسند أحمد:(2/ 20 ،رقم الحدیث:581،ط: مؤسسة الرسالة)*
حدثنا عبد الله، حدثني أبو إبراهيم الترجماني، حدثنا الفرج بن فضالة، عن عبد الله بن عمرو بن عثمان ، عن أمه فاطمة بنت حسين، عن حسين عن أبيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لا تديموا النظر إلى المجذمين، وإذا كلمتموهم، فليكن بينكم وبينهم قيد رمح .
*منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري:(5/ 221،ط: مكتبة دار البيان)*
«وقد وردت عنه صلى الله عليه وسلم كثير من الإرشادات الطبية التي يوجهنا فيها إلى الطب الوقائي ومن ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن دخول الأرض الموبوءة. وقوله صلى الله عليه وسلم: " لا يوردن ممرض على مصح " إلى غير ذلك.»
*«شرح سنن أبي داود للعباد:(123/ 39، بترقيم الشاملة آليا)*
(من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره في ذلك اليوم سحر) فهو وقاية، وهذا يدل على أن هناك أموراً تتخذ للوقاية من الأمراض ومن الأشياء التي تحصل في المستقبل، وكلها بمشيئة الله وإرادته، والله تعالى قدر الأسباب وقدر المسببات، فهذا يدلنا على أن تعاطي مثل هذه التمرات صباح كل يوم فيه وقاية من ذلك الذي ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي هو السحر، وفيه أيضاً دليل على أن التطعيم والتلقيح ضد أمراض مستقبلة أو أمراض يخشى منها في المستقبل سائغ وأنه لا بأس به، وهذا الحديث يدل عليه؛ لأن الرسول صلى الله عليه وسلم يقول: (من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره في ذلك اليوم سحر) يعني: بتناوله تلك التمرات.
*أيضاً:(436/ 31 بترقيم الشاملة آليا)*
«شرح حديث (من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر)
قال المصنف رحمه الله تعالى: [حدثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا أبو أسامة حدثنا هاشم بن هاشم عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أنه قال: (من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر)].
أورد أبو داود حديث سعد بن أبي وقاص: (من تصبح بسبع تمرات عجوة لم يضره في ذلك اليوم سم ولا سحر)، وهذا يدل على فائدة أكل هذا التمر في كل يوم سبع تمرات، وذلك أنه إذا تصبح فإنه يجعلها أول شيء يأكله، ولا يأكل قبلها شيئاً في الصباح، فإن في ذلك وقاية بإذن الله من السم والسحر في ذلك اليوم.
وهذا الحديث أصل في باب الطب الوقائي، وهو أنه تستعمل أدوية من أجل الوقاية من شيء قد يحصل، وهذا مثل التطعيمات ضد الأمراض، فهذا الحديث يدل على أن مثل هذا العمل سائغ.
والعجوة معروفة، وتكون في المدينة وفي غير المدينة، فلا بأس بأكل عجوة غير المدينة، ومن تصبح بسبع تمرات ليست عجوة فيرجى أن تحصل له هذه الوقاية من السم والسحر.