امامت و جماعت

بچوں کو مردوں کے صف میں کھڑا کرنے کی صورت میں اتصال کا حکم

فتوی نمبر :
1618
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بچوں کو مردوں کے صف میں کھڑا کرنے کی صورت میں اتصال کا حکم

مفتی صاحب! اگر چھوٹا بچہ مردوں کی صف کے درمیان کھڑا ہو جائے تو کیا اتصال نہیں رہتا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں صفوں کی ترتیب کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مرد آگے ہوں اور بچوں کی صف اُن کے پیچھے ہو، اس لیے بچوں کو پیچھے ایک صف میں کھڑا کرنا چاہیے، البتہ اگر بچے کم ہوں یا پیچھے کھڑے کیے جانے کی صورت میں شرارت یا شور شرابے کا سبب بنتے ہوں تو اُنہیں مردوں کی صفوں میں کھڑا کرنا بہتر ہے، اس سے صفوں کے اتصال میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع:(159/1،ط:دار الكتب العلمية)
ولو اجتمع الرجال والنساء والصبيان والخناثى والصبيات المراهقات فأرادوا أن يصطفوا للجماعة - يقوم الرجال صفا مما يلي الإمام، ثم الصبيان بعدهم، ثم الخناثى، ثم الإناث، ثم الصبيات المراهقات.

الشامية:(571/1،ط: دارالفكر)
(قوله فلو واحدا دخل الصف) ذكره في البحر بحثا، قال: وكذا لو كان المقتدي رجلا وصبيا يصفهما خلفه لحديث أنس «فصففت أنا واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا» وهذا بخلاف المرأة الواحدة فإنها تتأخر مطلقا كالمتعددات للحديث المذكور.

احسن الفتاویٰ301/10،ط:ایچ ایم سعید
"بچوں کو پیچھے کھڑا کرنا مستحب ہے، اگر ان سے کسی شرارت اور اپنی نمازیں خراب کرنے اور دوسروں کی نمازوں میں خلل ڈالنے کا اندیشہ نہ ہو تو اسی پر عمل کرنا چاہیے، مگر اس زمانہ میں مشاہدہ ہے کہ جب بچے اکھٹے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ ضرور شرارت کرتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، ہنستے ہیں، جس سے ان کی اپنی نماز تو خراب ہوتی ہی ہے، بالغین کی نمازوں میں بھی شدید خلل ہوتا ہے، اسی بناء پر بعض متاخرین فقہاء رحمھم اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی ہے کہ بچوں کو بالغین کی صف میں کھڑا کرنا ہی متعین ہے، چناں چہ علامہ رافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"قال الرحمتي: ربما يتعين في زماننا إدخال الصبيان في صفوف الرجال؛ لأن المعهود منهم إذا اجتمع صبيان فأكثر تبطل صلاۃ بعضهم ببعض وربما تعدی ضررهم إلي إفساد صلاة الرجال. انتهي. سندي.

خلاصہ یہ ہے کہ بچوں کو پیچھے کھڑا کرنا مستحب لعینہ ہے اور عوارضِ مذکورہ کی بنا پر بالغین کی صفوں میں متفرق کھڑا کرنا مستحب لغیرہ ہے، جو خاص حالات وضرورتِ شدیدہ کے وقت درجۂ واجب تک بھی پہنچ سکتا ہے، جیسا کہ علامہ رافعی کی مذکورہ عبارت سے معلوم ہوتا ہے"۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 1618کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --