خرید و فروخت

ادھار سامان زیادہ قیمت پرفروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1598
معاملات / مالی معاوضات / خرید و فروخت

ادھار سامان زیادہ قیمت پرفروخت کرنے کا حکم

حضرت! میری کریانہ کی دکان ہے
اور لوگ ادھار بھی لے کر جاتے ہیں اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ادھار سامان، مہنگا فروخت کرنا جائز ہے،یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نقد معاملہ کرتے وقت سامان کی قیمت کم طے کرنا اور ادھار معاملہ کرتے وقت زیادہ طے کرنا شرعاً جائز ہے، یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا، البتہ اس کے لیے چند شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
۱۔بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان یہ بات واضح طور پر طے ہو کہ معاملہ ادھار ہے یا نقد،اگر تعیین نہ ہو تو معاملہ ناجائز ہے۔

۲۔ادھار قیمت کی ادائیگی کے لیے ایک متعین وقت مقرر کرنا ضروری ہے، ورنہ معاملہ فاسد ہوگا۔

۳۔طے شدہ قیمت کے بعد مدت بڑھانے یا تاخیر کی بنیاد پر رقم میں اضافہ یا جرمانہ لینا سود ہے اور ناجائز ہے۔
اگر ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی نہیں پائی گئی تو معاملہ درست نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال بن الهمام:(261/6،ط:دار الفكر)
(قوله ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل) لإطلاق قوله تعالى﴿وأحل الله البيع﴾ [البقرة: ٢٧٥] وعنه عليه الصلاة والسلام «أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه» . ولا بد أن يكون الأجل معلوما؛ لأن الجهالة فيه مانعة من التسليم الواجب بالعقد، فهذا يطالبه به في قريب المدة، وهذا يسلمه في بعيدها.

المبسوط للسرخسي:(7/13،ط:دار المعرفة )
وإذا عقدالعقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي ﷺ عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.

فقه البيوع545/1
وإنّ زیادۃ الثمن من أجل الأجل ،وإن کان جائزا عند بدایۃ العقد، ولکن لا تجوز الزّیادۃ عند التّخلّف فی الأداء، فإنہ رباً فی معنی "أتقضی أم تربی؟"، وذالک لأنّ الأجل ،وإن کان منظورا عند تعیین الثمن فی بدایۃ العقد ،ولکن لمّا تعین الثمن ،فإنّ کلہ مقابل للمبیع، ولیس مقابلا للأجل، ولذلک لایجوز "ضع و تعجل" ۔ أمّا إذا زید فی الثّمن عند التّخلّف فی الأداء ، فھو مقابل للأجل مباشرۃً لا غیر، وھو الربا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
25
فتوی نمبر 1598کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --