اولاد کے حقوق

کنجوس شوہر کے جیب سے بیوی کا چھپ کر خرچہ کے لیے بلا اجازت پیسے لینے کا حکم

فتوی نمبر :
1590
معاشرت زندگی / حقوق و فرائض / اولاد کے حقوق

کنجوس شوہر کے جیب سے بیوی کا چھپ کر خرچہ کے لیے بلا اجازت پیسے لینے کا حکم

مفتی صاحب !
ایک عورت کا شوہر بہت کنجوس ہے ، وہ اپنی بیوی اور اس کے بچوں کی ضروریات بھی پوری نہیں کرتا ، وہ بس پیسے جمع کرتا رہتا ہے اور خوش ہوتا ہے
ایسی صورت حال میں اگر بیوی شوہر کے جیب سے چھپ کر پیسے لے اور اسے اپنے اور اپنے بچوں کی ضررویات میں لگادیں تو کیااس عورت کی اللہ تعالیٰ کے ہاں پکڑ ہوگی یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بیوی بچوں پر خرچ کرنا ان کی ضروریات پوری کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے ، اگر وہ اسے پورا نہیں کرتا تو بقدر ضرورت بیوی چھپ کر اس کے جیب سے اپنی ضروریات کے لیے رقم نکال سکتی ہے ۔

حوالہ جات

صحيح البخاري: (3/ 79، رقم الحديث : 2211، ط: دارطوق النجاة )
عن عائشة رضي الله عنها: قالت هند أم معاوية لرسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أبا سفيان ‌رجل ‌شحيح، فهل علي جناح أن آخذ من ماله سرا؟ قال: خذي أنت وبنوك ما يكفيك بالمعروف.

فتح الباري لابن حجر (9/ 508 ،ط: دار المعرفة )
ووقع في رواية الزهري فهل علي حرج أن أطعم من الذي له عيالنا قوله فقال خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف في رواية شعيب عن الزهري التي تقدمت في المظالم لا حرج عليك أن تطعميهم بالمعروف قال القرطبي قوله خذي أمر إباحة بدليل قوله لا حرج والمراد بالمعروف القدر الذي عرف بالعادة أنه الكفاية .

عمدة القاري : (21/ 21، ط:دارالفكر)
هذا باب يذكر فيه إذا لم ينفق الرجل فللمرأة ‌أن ‌تأخذ ‌بغير ‌علمه ما يكفيها وولدها. قوله: (بالمعروف) ، أي: باعتبار عرف الناس في نفقة مثلها ونفقة ولدها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1590کی تصدیق کریں