غسل

نزلہ کی حالت میں غسل جنابت کا حکم

فتوی نمبر :
1442
طہارت و نجاست / طہارت / غسل

نزلہ کی حالت میں غسل جنابت کا حکم

مفتی صاحب!
اگر کسی کو نزلہ ہو اور اس کو احتلام ہوجائے تو کیا وہ تیمم کرسکتا ہے یا غسل ہی کرے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی کو احتلام ہوجائے اور بیماری کی وجہ سے ٹھنڈے پانی کا استعمال نقصان دہ ہو یا ہلاکت کا خوف ہو تو گرم پانی سے غسل کرے، اگر پانی گرم کرنے کا انتظام نہ ہو تو تیمم کرنا جائز ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں نزلہ کی حالت میں اگر پانی استعمال کرنا بیماری کی وجہ سے ممکن نہ ہو اور گرم پانی بھی میسر نہ ہو تو تیمم کی اجازت ہے۔

حوالہ جات

*سنن أبي داود:(1/ 252 ،رقم الحدیث:336،ط:دار الرسالة العالمية)*
عن جابر، قال: خرجنا في سفر فأصاب رجلا معنا حجر فشجه في رأسه، ثم احتلم، فسأل أصحابه فقال: هل تجدون لي رخصة في التيمم؟ قالوا: ما نجد لك رخصة وأنت تقدر على الماء، فاغتسل فمات، فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم أخبر بذلك، فقال: "‌قتلوه ‌قتلهم ‌الله، ألا سألوا إذ لم يعلموا، فإنما شفاء العي السؤال، إنما كان يكفيه أن يتيمم ويعصر -أو يعصب، شك موسى- على جرحه خرقة، ثم يمسح عليها ويغسل سائر جسده".

*البحر المحيط:(653/3،ط: دار الفكر)*
وإن خاف حدوث مرض أو زيادته، أو تأخر البرء، فذهب أبو حنيفة ومالك: إلى أنه يتيمم. وقال الشافعي: لا يجوز، وقيل: الصحيح عن الشافعي أنه إذا خاف طول المرض جاز له التيمم.

*مجمع الأنهر:(14/1،ط:دار إحياء التراث العربي)*
اعلم أن المضمضة ليست غسل الفم، وكذا الاستنشاق ليس غسل الأنف بل هي عبارة عن إدارة الماء في الفم، وهو عبارة عن جذب الماء بالنفس نص على ذلك في فصل الجنائز صاحب غاية البيان فمن بدلهما بغسل الفم والأنف لم يصب.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
32
فتوی نمبر 1442کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --