السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم علماء کرام کی خدمت میں سوال یہ ہے کہ اپنی تصویر یا ، سیلفی لینا اور فیس بک یا، واٹس ایپ یا سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارم پر اپلوڈ کرنا کیسا ہے؟
ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں علمائےکرام کی آراء مختلف ہیں: بعض علمائے کرام کے نزدیک کیمرے سے بنائی گئی ڈیجیٹل تصویر جب تک پرنٹ نہ کی جائے یا کسی مستقل چیز پر نقش نہ ہو، وہ ناجائز تصویر میں داخل نہیں ہوتی، بشرطیکہ اس میں نامحرم افراد یا فحش مناظر شامل نہ ہوں۔ ان حضرات کے مطابق جس چیز کو براہِ راست دیکھنا جائز ہے، اسی کی ڈیجیٹل تصویر یا ویڈیو بھی جائز ہے، اور جس کو دیکھنا ناجائز ہے اس کی تصویر بنانا بھی ناجائز ہے۔
دوسری طرف بعض علمائےکرام ڈیجیٹل تصویر کو بھی عام تصویر کے حکم میں قرار دیتے ہوئے اسے ناجائز کہتے ہیں۔
البتہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ ڈیجیٹل ہو یا نان ڈیجیٹل، کیمرے کے ذریعے نامحرم افراد کی تصاویر بنانا، فحش مناظر کو محفوظ کرنا یا موسیقی کے ساتھ ویڈیوز بنانا حرام اور ناجائز ہے۔
لہٰذا موبائل یا کیمرے سے اگر شرعی حدود میں رہتے ہوئے اور ضرورت کے تحت تصویر بنائی جائے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن بلا ضرورت محض تفریح یا شوق کے طور پر تصویر سازی سے اجتناب کرنا ہی زیادہ بہتر اور محتاط عمل ہے۔
*الصحیح البخاری:(168/7،رقم الحدیث:5954ط: دار طوق النجاة)*
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال: سمعت عبد الرحمن بن القاسم، وما بالمدينة يومئذ أفضل منه، قال: سمعت أبي، قال: سمعت عائشة رضي الله عنها: قدم رسول الله ﷺ من سفر، وقد سترتُ بقرام لي على سهوة لي فيها تماثيل، فلما رآه رسول الله ﷺ هتكه وقال: «أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله» قالت: فجعلناه وسادة أو وسادتين.
*تکملة فتح الملهم:(164/4 ،ط دارالعلوم کراتشی)*
اما التلفزیون و الفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر الی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ ( الی قولہ ) اما الصورۃ التی لیس لھا ثبات و استقرار و لیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ و یبدوا ان صورۃ التلفزیون و الفدیوا لا تستقر علی شیئ.