عبادات / احکام مسجد / حقوق مسجد

سرکاری زمین پر مسجد بنانا اور مسجد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا

فتوی نمبر : 3245 0000-00-00 3 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

مولانا صاحب! ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا: ایک مسجد سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی تھی، اب پہاڑی علاقے میں کرش نکالے جانے کی وجہ سے حکومت کی جانب سے اس مسجد کو منہدم کرکے دوسری جگہ تعمیر کیا جا رہا ہے اور حکومت کی طرف سے مسجد کی دوبارہ تعمیر کے اخراجات بھی دیے جائیں گے۔ اب جس شخص نے سابقہ مسجد تعمیر کروائی تھی، اس کی ذاتی زمین کسی دوسرے علاقے میں موجود ہے اور وہ چاہتا ہے کہ نئی مسجد سرکاری زمین کے بجائے اپنی ذاتی زمین پر تعمیر کروائے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ، کیا شرعاً سابقہ مسجد کو اس طرح، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرکے، ذاتی زمین پر تعمیر کرنا جائز ہے؟ اور حکومت کی طرف سے مسجد کی تعمیر کے لیے ملنے والی رقم کا اس مقصد کے لیے استعمال کرنا شرعاً درست ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجدِ شرعی کے لیے زمین کا باقاعدہ وقف ہونا اور مالک یا حکومت کی اجازت ضروری ہے، اگر اجازت کے بغیر کسی سرکاری یا نجی زمین پر مسجد بنائی جائے تو وہ شرعاً مسجد نہیں ہوگی، بلکہ صرف مُصلی شمار ہو گا، جب تک حکومت اس جگہ کو باضابطہ طور پر مسجد کے لیے الاٹ نہ کردے وہاں مسجد کے احکام جاری نہیں ہوں گے، تاہم عبادت گاہ ہونے کی وجہ سے اس کا احترام لازم ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر سرکار کی طرف سے یہ جگہ مسجد کے لیے وقف نہیں کی گئی تو یہ مصلی کے حکم میں ہو گی، اسے گرانا اور تبدیل کرنا جائز ہوگا، لیکن اگر یہ جگہ مسجد کے لیے وقف کی گئی ہو تو یہ مسجد شرعی کے حکم میں ہوگی اور قیامت تک مسجد کے حکم میں رہے گی، اسے گرانا اور تبدیل کرنا جائز نہ ہوگا۔

البحر الرائق:(269/5ط:دار الكتاب الإسلامي) ومن بنى مسجدا في أرض مملوكة له إلى آخره فأفاد أن من شرطه ملك الأرض ولذا قال في الخانية ولو أن سلطانا أذن لقوم أن يجعلوا أرضا من أراضي البلدة حوانيت موقوفة على المسجد أو أمرهم أن يزيدوا في مسجدهم قالوا إن كانت البلدة فتحت عنوة وذلك لا يضر بالمارة والناس ينفذ أمر السلطان فيها وإن كانت البلدة فتحت صلحا لا ينفذ أمر السلطان لأن في الأول تصير ملكا للغانمين فجاز أمر السلطان فيها وفي الثاني تبقى على ملك ملاكها فلا ينفذ أمره فيها اهـ. الهندية:(110/1،ط: دارالفكر) مسجد بني على سور المدينة قالوا لا يصلى فيه؛ لأن السور حق العامة وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل إن كانت البلدة فتحت عنوة وبنى مسجد بإذن الإمام جازت الصلاة فيه؛ لأن للإمام أن يجعل الطريق مسجدا فهذا أولى.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)