ایک شخص نے اپنی تقریباً چھ ماہ کی نابالغ بچی کی منگنی ایک دوسرے نابالغ بچے سے کر دی اور کہا کہ بالغ ہونے کے بعد اس بچی کا نکاح اس لڑکے سے کر دیا جائے گا، اب جب وہ بچی بالغ ہو چکی ہے تو وہ اس لڑکے سے نکاح کرنے سے انکار کر رہی ہے، کیا ایسی صورت میں بچی کو اس منگنی سے انکار کرنے اور منگنی ختم کرنے کا شرعاً اختیار ہے؟
واضح رہے کہ منگنی شرعاً نکاح نہیں، بلکہ وعدہ نکاح ہے اور بلا عذرِ شرعی وعدہ توڑنا مسلمان کی شان نہیں ،بلکہ ناپسندیدہ عمل اور منافق کی نشانی ہے، اس لیے بلا عذرِ شرعی منگنی کو نہ توڑا جائے، تاہم اگر کوئی عذر ہو تو منگنی توڑنے کی گنجائش ہے۔ پوچھی گئی صورت میں لڑکے والوں کا یہ کہنا کہ اپنی یہ لڑکی ہمارے اس لڑکے کو دے دو اور لڑکی کے والدین نے کہا کہ ٹھیک ہے،یہ نکاح نہیں ہے، بلکہ وعدہ نکاح ہے، لہذا اگر لڑکی راضی نہیں ہے تو اسے توڑا جاسکتا ہے۔
صحيح البخاري:(25/8،رقم الحديث: 6095،ط:دار طوق النجاة) حدثنا ابن سلام حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن أبي سهيل نافع بن مالك بن أبي عامر، عن أبيه، عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.» فتاوی دار العلوم دیوبند:(105/7،ط: دارالعلوم دیوبند) ”خطبہ اور منگنی وعدۂ نکاح ہے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، اگرچہ مجلس خطبہ کی رسوم پوری ہوگئی ہوں، البتہ وعدہ خلافی کرنا بدون کسی عذر کے مذموم ہے، لیکن اگر مصلحت لڑکی کی دوسری جگہ نکاح کرنے میں ہے تو دوسری جگہ نکاح لڑکی مذکورہ کا جائز ہے۔“