عبادات / جنائز / احکام وصیت

مرض الوفات میں قرضے کا اقرار کرنا

فتوی نمبر : 2752 0000-00-00 8 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

اگر کوئی شخص مرضِ وفات میں کسی اجنبی شخص کے حق میں قرض کا اقرار کرے تو کیا یہ اقرار شرعاً معتبر ہوگا؟ اور کیا اس قرض کی ادائیگی ورثا پر لازم ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کوئی شخص مرض الوفات میں کسی ایسے قرض کا اقرار کرے جس کا تعلق کسی غیر وارث (اجنبی شخص) سے ہو تو یہ اقرار شرعاً صحیح ہے، لہٰذا اس قرض کی ادائیگی میت کے ترکہ سے کی جائے گی اور ورثا پر لازم ہو گا کہ میراث تقسیم کرنے سے پہلے اس قرض کو ادا کریں۔

*الهندية:(177/4،ط: دارالفكر)* إقرار المريض بالدين للأجنبي بجميع المال جائز إذا لم يكن عليه دين الصحة كذا في المحيط. *الأصل لمحمد بن الحسن :(226/8،ط:دار ابن حزم)* الإقرار بالدين وغيره في المرض. حدثنا محمد بن الحسن عن يعقوب قال: حدثنا محمد بن عبيد الله العَرْزَمي عن نافع عن ابن عمر أنه قال: إذا أقر الرجل في مرضه بدين لرجل غير وارث فإنه جائز وإن أحاط ذلك بماله، كان أقر لوارثه لم يجز. وكذلك قال أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد بن الحسن. وإذا أقر الرجل بدين في مرضه الذي مات فيه لرجل ثم أقر بدين بعد ذلك لرجل آخر متصلًا كان إقراره أو متفرقًا فإنه جائز، ويباع ما ترك فيه، فيكون بينهم بالحصص. وهكذا قال أبو حنيفة.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مرض الوفات میں قرضے کا اقرار کرنا