مفتی صاحب! میں ایک ادارے میں کال سینٹر میں کام کرنا چاہتا ہوں، کیا یہ جائز ہے؟
کال سینٹر سے مراد ایسا شعبہ ہے جہاں کسی ادارے یا کمپنی کے صارفین اپنی شکایات درج کراتے ہیں، یا مطلوبہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور نمائندہ ان کی رہنمائی کرتا ہے، لہٰذا کال سینٹر میں ملازمت کے جائز یا ناجائز ہونے کا دار و مدار اس ادارے یا کمپنی کے کاروبار پر ہے، اگر ادارے کا کام شرعاً جائز ہو تو اس کے کال سینٹر میں ملازمت کرنا بھی جائز ہے اور اگر ادارے کا کاروبار ناجائز ہو تو اس کی ملازمت بھی ناجائز ہوگی۔
*بدائع الصنائع:(189/4،ط:دار الكتب العلمية)* وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما وكذا لو استأجر رجلا ليقتل له رجلا أو ليسجنه أو ليضربه ظلما وكذا كل إجارة وقعت لمظلمة؛ لأنه استئجار لفعل المعصية فلا يكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء شرعا فإن كان ذلك بحق بأن استأجر إنسانا لقطع عضو جاز. *الشامية:(63/6،ط: دارالفكر)* وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.