مفتی صاحب ! اگر رمضان المبارک میں کسی خاتون کو حیض شروع ہو جائے تو کیا وہ باقی دن تنہائی میں کھا پی سکتی ہے یا اس کے باوجود بھی کھانا پینا اس کو منع ہے؟
اگر کسی عورت کو روزے کی حالت میں مغرب سے پہلے کسی بھی وقت حیض آجائے تو اس کا روزہ فاسد ہوجاتا ہے، ایسے روزے کی بعد میں قضا لازم ہے، نفاس کا حکم بھی یہی ہے۔ایسی عورت کو بقیہ دن کھا،پی لینا چاہیے، روزے داروں کی مشابہت اس کے لیے ضروری نہیں ۔
*حاشية الطحطاوي:(678/1،ط:دار الكتب العلمية)* وأما في حالة تحقق الحيض والنفاس فيحرم الإمساك لأن الصوم منهما حرام والتشبه بالحرام حرام. *الهداية:(99/4،ط:دار الكتب العلمية)* وإذا حاضت المرأة، أو نفست أفطرت وقضت، بخلاف الصلاة؛ لأنها تحرج في قضائها. *الشامية:(291/1،ط: دارالفكر)* وهل يكره لها التشبه بالصوم أم لا؟ مال بعض المحققين إلى الأول؛ لأن الصوم لها حرام فالتشبه به مثله. واعترض بأنه يستحب لها الوضوء والقعود في مصلاها وهو تشبه بالصلاة. اهـ تأمل.