سوال یہ ہے کہ بعض لوگ عاملین سے اپنے آنے والے مستقبل کے حالات اور معاملات کے بارے میں پوچھتے ہیں، دین کی روشنی میں یہ کیسا ہے؟
واضح رہے کہ غیب اور مستقبل کے امور کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اسی لیے کاہنوں، نجومیوں اور فال نکالنے والوں کے پاس جانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جو شخص ان کی باتوں کی تصدیق کرے یا انہیں غیب دان سمجھے وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ یہ عقیدہ کفر تک پہنچا دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جانے، ان کی باتیں سننے اور ان پر یقین کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ ایسے باطل لوگوں سے دور رہے اور زندگی کے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرے ۔
*صحيح البخاري:(114/4،رقم الحديث:3210،ط:دار طوق النجاة)* حدثنا محمد حدثنا ابن أبي مريم أخبرنا الليث حدثنا ابن أبي جعفر، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عروة بن الزبير، عن عائشة رضي الله عنها زوج النبي ﷺ أنها سمعت رسول الله ﷺ يقول: «إن الملائكة تنزل في العنان وهو السحاب فتذكر الأمر قضي في السماء فتسترق الشياطين السمع فتسمعه فتوحيه إلى الكهان فيكذبون معها مائة كذبة من عند أنفسهم.» *صحيح مسلم:(38/7،رقم الحديث:125-(2230)،ط:دار طوق النجاة)* حدثنا محمد بن المثنى العنزي ، حدثنا يحيى - يعني ابن سعيد - عن عبيد الله ، عن نافع ، عن صفية ، عن بعض أزواج النبي ﷺ، عن النبي ﷺ قال: «من أتى عرافا فسأله عن شيء لم تقبل له صلاة أربعين ليلة ». *سنن ابى داود :(50/6،رقم الحديث:3905،ط:دار الرسالة العالمية)* حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة ومسدد -المعنى- قالا: حدثنا يحيى، عن عبيد الله بن الأخنس، عن الوليد بن عبد الله، عن يوسف بن ماهك عن ابن عباس، قال: قال رسول الله - ﷺ -: «من اقتبس علما من النجوم اقتبس شعبة من السحر، زاد ما زاد».