معاملات / احکام طلاق / تفریق و تنسیخ

شادی شدہ لڑکی کے بھاگ جانے پر شوہر کا طلاق دینا اور عدت کا طریقہ

فتوی نمبر : 111 0000-00-00 128 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان گرامی اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک عورت شادی کے 20 سال ایک گھر میں رہے اور شوہر کے ساتھ ناچاقی کی صورت میں وہ گھر بار چھوڑ کر کہیں اور پناہ لے لیتی ہے اور فرقانونی کاروائی کرتے ہوئے تھانے سے شوہر کے پیچھے سمن بھیج دیتی ہے اور طلاق کا مطالبہ کرتی ہے لڑکی کے بھائی اس کے شوہر کو بلا کر تھانے میں اس سے طلاق دلوا دیتے ہیں ۔لڑکی کے بھائی اس کو بہت سمجھاتے ہیں کہ گھر پہ ا جاؤ ہم تجھے معاف کرتے ہیں اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارو بس لیکن وہ کسی بھی صورت میں نہ مانی پھر خاندان والوں نے اس سے کہا کہ اگر تو نہیں اتی تو ہمارے ابا و اجداد کے وطن پر بند ہوگی تیرا جینا مرنا ہمارے ساتھ نہیں ہوگا اس نے قبول کر لیا۔اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا اس لڑکی کا کوئی حق باقی ہے جیسا کہ بہنوں کا کوئی حصہ وغیرہ ہوتا ہے جب کہ بھائی اور خاندان اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتے کیا شریعت کی رو کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے؟قران اور حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب باسم ملہم الصواب واضح رہے کہ فون پر دی گئی طلاق،چاہے کال کے ذریعے ہو،وائس میسج یا ٹیکسٹ کی صورت میں،ہر حال میں واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں عورت کو اگر اس کا شوہر فون پر میسج یا کال کے ذریعے طلاق دے تو طلاق واقع ہو جائے گی،نیز طلاق کے بعد عورت،عدت سابق شوہر کے گھر میں گزارے گی اور دوران عدت نان و نفقہ سابق شوہر پر ہی لازم ہوگا۔ عدت گزارنے کے بعد عورت،گواہوں کی موجودگی میں جس کے ساتھ چاہے نکاح کر لے۔

دلائل: الشامیة:(436/3،ط: دارالفکر) "(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) .... (ولا بد من سترة بينهما في البائن) لئلا يختلي بالأجنبية، ومفاده أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة (وإن ضاق المنزل عليهما، أو كان الزوج فاسقا فخروجه أولى) لأن مكثها واجب لا مكثه، ومفاده وجوب الحكم به ذكره الكمال" "(قوله: أي معتدة طلاق وموت) قال في الجوهرة: هذا إذا كان الطلاق رجعيا فلو بائنا فلا بد من سترة إلا أن يكون فاسقا فإنها تخرج اهـ فأفاد أن مطلقة الرجعي لا تخرج ولا تجب سترة ولو فاسقا لقيام الزوجية بينهما ولأن غايته أنه إذا وطئها صار مراجعا (قوله: في بيت وجبت فيه) هو ما يضاف إليهما بالسكنى قبل الفرقة. الھندیة:(557/1،ط:) المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة". بدائع الصنائع:(334/2،ط: دارالکتب العلمیة) "وعليها أن تطيعه في نفسها، وتحفظ غيبته؛ ولأن الله عز وجل أمر بتأديبهن بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن، ونهى عن طاعتهن بقوله عز وجل: {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] ، فدل أن التأديب كان لترك الطاعة، فيدل على لزوم طاعتهن الأزواج." واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب دار الافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ،کراچی
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)