معاملات / احکام طلاق / تفویض طلاق

تفویض طلاق سے ہمیشہ طلاق کے حق کا حکم

فتوی نمبر : 3273 0000-00-00 7 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

سوال: ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ میرے شوہر نے ایک مرتبہ مجھ سے یہ الفاظ کہے: ’’آج سے میں نے تمہیں بھی طلاق کا حق دیا ہے۔‘‘ لیکن انہوں نے یہ الفاظ نہیں کہے کہ ’’ہمیشہ کے لیے تمہیں طلاق کا حق دیا ہے‘‘ یا ’’جب چاہو اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہو۔‘‘ کیا شوہر کے مذکورہ الفاظ سے مجھے ہمیشہ کے لیے اپنے آپ کو طلاق دینے کا اختیار حاصل ہوگیا تھا، یا یہ اختیار صرف اسی مجلس تک محدود تھا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر شوہر بیوی سے طلاق کی نیت سے کہے: ’’آج سے میں نے تمہیں بھی طلاق کا حق دیا ہے‘‘ تو یہ اختیار اسی مجلس تک محدود رہتا ہے، بشرطیکہ کوئی مدت مقرر نہ کی گئی ہو، اگر بیوی مجلس ختم ہونے سے پہلے اختیار استعمال نہ کرے اور وہاں سے چلی جائے یا کسی دوسرے کام میں مشغول ہوجائے تو یہ اختیار ختم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب شوہر نے کوئی مدت متعین نہیں کی تو یہ اختیار مجلس تک رہے گا، بعد میں کسی دوسرے دن اپنے آپ کو طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتح القدير:(76/4،ط:دار الفكر) (قوله: إذا قال لامرأته: اختاري ينوي بذلك الطلاق) يعني ينوي تخييرها فيه (أو قال لها: طلقي نفسك فلها أن تطلق نفسها ما دامت في مجلسها ذلك) وإن طال يوما أو أكثر ولم يتبدل بالأعمال (فإن قامت منه أو أخذت في عمل آخر خرج الأمر من يدها؛ لأن المخيرة لها خيار المجلس بإجماع الصحابة - رضوان الله عليهم -). الدرالمختار:(315/3،ط: دارالفكر) (قال لها اختاري أو أمرك بيدك ينوي) تفويض (الطلاق) لأنها كناية فلا يعملان بلا نية (أو طلقي نفسك فلها أن تطلق في مجلس علمها به) مشافهة أو إخبارا (وإن طال) يوما أو أكثر ما لم يوقته ويمضي الوقت
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تفویض طلاق سے ہمیشہ طلاق کے حق کا حکم