معاملات / ترکات / احکام وصیت

والد کا زندگی میں اولاد کو قبضہ دیے بغیر صرف زبانی ہدیے اور مدرسے کے لیے وصیت

فتوی نمبر : 3130 0000-00-00 28 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! شریعت کے مطابق وراثت کی تقسیم کا فتوی چاہیے میری والدہ کا 20 سال پہلے انتقال ہو گیا تھا اور میرے والد نے کوئی دوسری شادی نہیں کی ہم ٹوٹل پانچ بہن بھائی ہیں، میرے والد کا 240 گز مکان ہے جو والد کے نام پر لیز ہے، میری بڑی بہن شادی شدہ تھی، جس کا والد کی زندگی میں انتقال ہو گیا اور میں شادی شدہ ہوں ، میری تیسری بہن کنواری ہے تو والد نے تحریری طور پر وصیت نامہ اپنی زندگی میں لکھا تھا،میرے دو بھائی ہیں، دونوں کنوارے ہیں،بڑے بھائی کو 60 گز، چھوٹے بھائی کو 60 گز اور میری بہن جو فوت ہو گئی ان کو 30 گز اور میں جو شادی شدہ ہوں مجھے 30 گز اور میری جو بہن کنواری ہے ان کو 60 گز دیا تھا اور تحریری طور پر یہ لکھا ہے کہ ہماری چھوٹی بہن جو کنواری ہے ان کی اگر شادی ہو جائے تو ان کو 30 گز ملے گا شادی کے بعد اور باقی 30 گز بیچ کر مدرسے میں اس کی رقم دی جائے گی۔ شریعت کے مطابق یہ تقسیم صحیح ہے یا غلط ہے؟ میرے والد کی زندگی میں اور مرنے کے بعد قبضہ کسی کو بھی نہیں دیا گیا تھا، ترکے کا شریعت میں کیا حکم ہے ؟اور گھر کے سامان کا کیا حکم ہے؟اور گھر کہ سامان کا وہ کس کو ملنا چاہیے؟جزاک اللہ خیرا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب والد کا انتقال ہو جائے تو سب سے پہلے ان کے ترکہ سے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کیے جائیں گے، اس کے بعد اگر کوئی قرض ہو تو وہ پورا کیا جائے گا، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی ترکہ سے نافذ کی جائے گی، اس کے بعد جو مال باقی بچے، وہ شرعی اصولوں کے مطابق ورثا میں تقسیم ہوگا، جس میں سے بیٹے کو دو اور بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی بیٹے یا کسی رشتے دار کو مکان ہبہ کرکے قبضہ بھی دے دے تو وہ مکان اس شخص (جس کو مکان ہبہ کیا گیا ہے)کی ملکیت شمار ہوگا، ہبہ کرنے والے کے انتقال کے بعد ورثا میں تقسیم نہ ہوگا، البتہ اگر صرف نام کردیا تھا، تصرف وغیرہ کا اختیارنہیں دیا تو پھر وہ ہبہ مکمل نہیں ہوا اور وہ مکان اب بھی اصل مالک کی ملکیت میں شمار ہوگا اور انتقال کے بعد وراثت میں شامل ہوگا۔ گھر کا وہ سامان جو مرحوم کی ملکیت تھا، وہ بھی ترکہ میں شامل ہوگا۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کے والد نے مکان صرف زبانی اور تحریری ہبہ کیا ہے، قبضہ اور تصرف کا اختیار نہیں دیا، لہٰذا ہبہ مکمل نہیں ہوا، اس لیے یہ مکان تمام ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کیا جائے گا اور گھر کا جو سامان آپ کے والد کی ملکیت تھا، وہ بھی ترکہ میں شامل ہوگا اور تمام ورثاء میں حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔ تیس گز زمین کی قیمت کی جو وصیت مدرسے کے لیے کی ہے، وہ مرنے کے بعد اگر تہائی یا اس سے کم ہے تو یہ قیمت مدرسے کو دی جائے گی، اگر تہائی سے زیادہ بن رہی ہو تو تہائی مال تک وصیت نافذ کی جائے گی۔

القرأن الكريم : [النساء:/4 11] يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ ملتقى الأبحر:(495/1،ط:دار الكتب العلمية) يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه بلا إسراف ولا تقتير ثم تقضى ديونه ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته ويستحق الإرث بنسب ونكاح وولاء. ويبدأ بأصحاب الفروض ثم بالعصاب النسبية، ثم بالمعتق ثم عصبته، ثم الرد ثم ذوي الأرحام ثم مولي الموالاة ثم المقر له بنسب لم يثبت ثم الموصى له بأكثر من الثلث ثم بيت المال. البحرالرائق شرح کنز الدقائق:( 285/7، ط:دار الکتاب الاسلامی ) لو قال ‌جعلته ‌باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)