کیا بیوی کو گھر پر چھوڑ کر علم حاصل کرنے جاسکتے ہیں؟
شوہر پر بیوی کے حقوق کی ادائیگی لازم ہے، فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ شوہر پر کم از کم ہر چار ماہ میں ایک مرتبہ حقِ زوجیت ادا کرنا واجب ہے، اگر شوہر بیوی کے دیگر حقوق، مثلاً نان و نفقہ اور ضروری اخراجات پوری طرح ادا کرتا ہو تو علمِ دین یا کسی جائز مقصد کے لیے سفر کر سکتا ہے، البتہ اگر شوہر کی غیر موجودگی میں بیوی کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو شوہر کے لیے اسے تنہا چھوڑ کر سفر کرنا جائز نہیں، بلکہ حتی الامکان اسے اپنے ساتھ رکھنے یا اس کے تحفظ و ضروریات کا مناسب انتظام کرنا لازم ہے۔
الدرالمختار:(202/3،ط: دارالفكر) ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا. الشامية:(202/3،ط: دارالفكر) قال في النهر: في هذا الكلام تصريح بأن الجماع بعد المرة حقه لا حقها اهـ. قلت: فيه نظر بل هو حقه وحقها أيضا، لما علمت من أنه واجب ديانة. قال في البحر: وحيث علم أن الوطء لا يدخل تحت القسم فهل هو واجب للزوجة وفي البدائع: لها أن تطالبه بالوطء لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم تجب عليه في الحكم. اهـ. الهندية:(544/1،ط: دارالفكر) تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة.