مفتی صاحب! احرام میں ماسک پہن کر طواف کرنا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ اگر کسی نے حالت احرام میں طواف کے دوران چہرے کا چوتھائی یا اس سے زیادہ حصہ چھپا لے اور اسی حالت میں اس پر ایک دن یا ایک رات گزر جائے تو اس پر دم لازم ہوگا اور اگر ایک دن اور ایک رات سے کم عرصہ چہرے کو چھپائے رکھے تو اس پر صدقہ واجب ہے، لہذا طواف کے دوران ماسک پہننے کی صورت میں چونکہ چہرے کا چوتھائی یا زیادہ حصہ چھپ جاتا ہے، اس لیے اگر اس حالت میں اس پر ایک دن یا ایک رات گزر جائے تو اس پر دم لازم ہے اور اگر اس سے کم ہے تو اس پر صدقہ فطر کی مقدار کے مطابق صدقہ لازم ہے ۔
*غنية الناسك :(91،ط:ادارة القرآن)* "و أما تعصيب الرأس و الوجه فمكروه مطلقاً، موجب للجزاء بعذر أو بغير عذر، للتغليظ إلا ان صاحب العذر غير آثم". *أيضًا:(254)* "و لو عصب رأسه أو وجهه يومًا أو ليلةً فعليه صدقة، إلا ان يأخذ قدر الربع فدم". *الهندية:(242/1،ط:دارالفكر)* ولو غطى المحرم رأسه أو وجهه يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة كذا في الخلاصة وكذا إذا غطاه ليلة كاملة سواء غطاه عامدا أو ناسيا أو نائما كذا في السراج الوهاج. إذا غطى ربع رأسه فصاعدا يوما فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فعليه صدقة هكذا ذكر في المشهور.