السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب ! ایک صاحب کا کہنا ہے کہ جمعہ کے دن ہر جگہ کے اعتبار سے اسی زبان میں بیان کرنا یہ خطبہ ہے، عربی زبان میں پڑھنا لازم نہیں، جیسا کہ پاکستان میں خطبہ سے پہلے بیان ہوتا ہے تو یہ کافی ہو جاتا ہے، اس کے بعد دوبارہ عربی زبان میں پڑھنا لازم نہیں، کیا یہ بات درست ہے ؟ مہربانی فرماکر دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔
واضح رہے کہ جمعہ کے خطبے سے پہلے کیا جانے والا اردو بیان شرعاً مسنون خطبہ جمعہ کی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ حاضرین جمعہ کو ان کی اپنی زبان میں وعظ و نصیحت اور دینی رہنمائی فراہم کی جائے۔ اصل خطبۂ جمعہ وہ ہے جو عہد نبوی ﷺ سے لے کر امت کے مسلسل تعامل کے مطابق عربی زبان میں چلا آرہا ہے، اسی بنا پر شرعی خطبہ عربی ہی میں دینا ضروری قرار دیا گیا ہے، جبکہ اردو بیان محض نصیحت اور تعلیم کا ذریعہ ہوتا ہے۔
*الدر مع الرد:(147/2،ط: دارالفکر)* و) الرابع: (الخطبة فيه) فلو خطب قبله وصلى فيه لم تصح.... تتمة. لم يقيد الخطبة بكونها بالعربية اكتفاء بما قدمه في باب صفة الصلاة من أنها غير شرط ولو مع القدرة على العربية عنده خلافا لهما حيث شرطاها. *الدر مع الرد:(483/1،ط: دارالفکر)* (وصح شروعه) أيضا مع كراهة التحريم (بتسبيح وتهليل) وتحميد وسائر كلم التعظيم الخالصة له تعالى ولو مشتركة كرحيم وكريم في الأصح، وخصه الثاني بأكبر وكبير منكرا ومعرفا. زاد في الخلاصة والكبار مخففا ومثقلا (كما صح لو شرع بغير عربية) أي لسان كان. (قوله أيضا إلخ) أي كما صح شروعه بالتكبير السابق صح أيضا بالتسبيح ونحوه، لكن مع كراهة التحريم لأن الشروع بالتكبير واجب وقدمنا أن الواجب لفظ الله أكبر من بين ألفاظ التكبير الآتية. وقال في الخزائن هنا، وهل يكره الشروع بغير الله أكبر؟ تصحيحان. والراجح أنه مكروه تحريما، وأن وجوبه عام لا خاص بالعبد كما حرره في البحر للمواظبة التي لم تقترن بترك. *الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(1310/2،ط:دار الفكر)* تكون بالعربية، فلا تصح الخطبة بغير العربية مع القدرة عليها، كقراءة القرآن، فإنها لا تجزئ بغير العربية، وتصح الخطبة لا القراءة بغير العربية مع العجز عنها.